مہنگائی، ہر شہری کے لیے درد سر محترم ایڈیٹر صاحب روزنامہ ڈاک (آمنہ قادری)

Published: 17-11-2022

Cinque Terre

میں آپ کے موقر اخبار کے ذریعے عوام کے ایک بہت اہم مسئلے پر حکام بالا کی توجہ دلانا چاہتی ہوں کہ دنیا بھر میں مہنگائی کی شدت میں ہونے والے اضافے سے گجرات کے عوام بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں مگر حقیقت میں یہاں کچھ معاملات حل طلب ہیں اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ یہ مہنگائی عالمی مسئلہ بن چکی ہے مگر ہمارے ہاں کچھ حالات زیادہ ہی تشویشناک ہیں یہاں چھوٹے سے چھوٹے دکاندار سے لیکر بڑے ہول سیل ڈیلر یہ مہنگائی پیدا کرنے میں اپنا کردا ر ادا کررہے ہیں انتظامیہ کی طرف سے سپیشل پرائس مجسٹریٹس کو ڈیوٹیاں تفویض کی گئیں ہیں اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جو سیاسی لوگوں پر مشتمل ہیں جن کا کام مارکیٹ کاوزٹ کرنا اور مہنگائی کے سدباب کے لیے اقدامات کرنا ہے مگر وہ اس طرف بالکل بھی توجہ نہیں دے رہے جس کی وجہ سے مہنگائی کا بخار سرچڑ ھ کر بول رہا ہے چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے یہاں پر وہ دکاندار اور ریڑھی بان جن کا ڈائریکٹ تعلق عوام کے ساتھ ہے بے دھڑک ہو کر چیزیں اپنی مرضی کی قیمتوں پر فروخت کررہے ہیں انتظامیہ کی طرف سے مین شاہرات پر چند لوگوں کو چند ہزار روپے جرمانے کرکے اپنی ڈیوٹی مکمل کر دی جاتی ہے جو جرمانے ہوتے ہیں وہ بھی کسر عوام پر بے جا بوجھ ڈال کر یہ دکاندار نکال لیتے ہیں اور یہ جواز بتایا جاتا ہے کہ ہم مجبور ہیں ہمیں منڈی سے ہی چیزیں مہنگی مل رہی ہے کوئی چیز ہاتھ نہیں ڈالنے دیتی، مہنگائی کا سب سے زیادہ شکار غریب عوام ہیں جو مہنگی چیزیں خریدنے پر مجبور ہیں میں آپ کے اخبار کے توسط سے ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ براہ کرم مہنگائی کی اس خطر ناک لہر کے آگے بند باندھنے کے لیے ضروری ہے کہ چھاپہ مار ٹیمیں گلی محلوں میں جا کر انسپکشن کریں اور عوام کو مصنوعی مہنگائی میں مبتلا کرنے والے لوگوں کو معمولی جرمانے کرنے کی بجائے ان کی دکانیں سیل کی جائیں جو کم از کم ایک ڈیڑھ ماہ سے پہلے کھولی نہ جا سکیں علاوہ ازیں علماء کرام بھی تاجروں کو لیکچر دیں اور انہیں ناجائز منافع خوری سے روکیں تاکہ غریب عوام کی زندگی میں آسانی ہو سکے۔
خیراندیش

آج کا اخبار
اشتہارات